25 جنوری 2013 - 20:30

اردن کے بادشاہ عبداللہ دوئم نے اعتراف کیا ہے کہ شام میں موجود دہشت گردوں کو غیرملکی مدد و حمایت حاصل ہے۔

ابنا: العالم کی رپورٹ کے مطابق عبداللہ دوئم نے جمعہ کے روز ڈیوس اجلاس میں اعتراف کیا کہ شام کا ایک بڑا مسئلہ وہاں پر دہشت گرد گروہوں خاص طور پر دہشت گرد گروہ القاعدہ کے دہشت گردوں کی موجودگی، ان کے وہاں پر فوجی اڈے اور دوسرے ممالک کی جانب سے ان کی مدد و حمایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام کو دہشت گردوں سے پاک کرنا بہت مشکل ہے اس کے ساتھ ہی انہوں نے اعتراف کیا کہ بشار اسد کی حکومت بدستور مضبوط اور طاقتور ہے۔دوسری جانب لبنان میں شام کے سفیر علی عبدالکریم نے کہا ہے کہ دشمنوں کی سازشوں کے مقابل شام کا ٹھوس موقف، بحران شام کے بارے میں بین الاقوامی مہم جوئی اور مداخلت کو روکنے کا اہم سبب ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام کے بحران کو صرف سیاسی طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔ادھر شام میں فوج کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہونے والے دہشت گردوں کو علاج کے لیے ترکی کے اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ ترکی کے خبری ذرائع نے خبر دی ہے کہ شامی فوج کے ساتھ جھڑپ میں زخمی ہونے والے چار دہشت گردوں کو جیلوہ گوزو کی سرحد سے حاتای شدہ صوبے کے اسپتال میں علاج کے لیے داخل کرایا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی شامی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہونے والے دہشت گردوں کو ترکی منتقل کیا گيا ہے۔واضح رہے کہ ترکی، سعودی عرب اور قطر کے ساتھ مل کر شام میں دہشت گردی کی مالی اور فوجی مدد کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔/110